مرکز کوئی ایسا قدم نہیں اٹھائے گی جس سے کشمیریوں کے جذبات مجروح ہوں: وزیر داخلہ

سری نگر:مرکزی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے کشمیری علیحدگی پسندوں کو مسئلہ کشمیر پر مذاکرات کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ جو کوئی مجھ سے بات کرنا چاہتا ہے وہ اس کے لئے کھلے دل و دماغ سے تیار ہیں۔ انہوں نے جموں وکشمیر کو خصوصی پوزیشن عطا کرنے والی آئین ہند کی دفعہ 35 اے پر مبینہ طور پر منڈلا رہے خطرے پر کہا کہ مرکزی حکومت کوئی بھی ایسا قدم نہیں اٹھائے گی جس سے کشمیر کے لوگوں کے جذبات مجروح ہوں۔ ” ہم اپنے پڑوسی ملک پاکستان سے اچھے تعلقات چاہتے ہیں اور اسے ہندستان میں دہشت گرد بھیجنے اور دہشت گرد کاروائیوں کی فنڈنگ کا سلسلہ بند کرنا چاہیے“۔
راج ناتھ سنگھ پیر کے روز یہاں اپنے چار روزہ دورے کے تیسرے دن نیوز کانفرنس میں نامہ نگاروں سے بات چیت کررہے تھے۔اس موقع پروزیراعظم دفتر میں وزیر مملکت ڈاکٹر جتیندر سنگھ اور ریاستی نائب وزیر اعلیٰ ڈاکٹر نرمل سنگھ بھی موجود تھے۔ مرکزی وزیر داخلہ نے کشمیر میں احتجاجی مظاہروں کے دوران چھرے والی بندوقوں کے لگاتار استعمال پر کہا کہ ’پاوا شیل‘ کو اس کے متبادل کے طور پر متعارف کرایا گیا تھا لیکن وہ زیادہ موثر ثابت نہیں ہوا۔
انہوں نے قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی ای)کی طرف سے علیحدگی پسندوں اور تجارت پیشہ افراد کے گھروں اور دفاتر پر جاری چھاپہ مار کاروائیوں پر کہا کہ این آئی اے ایک خودمختار ایجنسی ہے اور وہ اپنا کام کررہی ہے۔ سیکورٹی فورسز کی جانب سے وادی میں شروع کئے گئے آپریشن آل آؤٹ سے متعلق ایک سوال کے جواب میں کہا کہ جنگجوؤں کا خیرمقدم نہیں کیا جاسکتا۔ مسٹر سنگھ نے کشمیری نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ کسی کے ورغلانے سے پتھر بازی نہ کریں ۔ وزیر داخلہ نے کشمیر کو پھر سے جنت بنانے کی بات دھراتے ہوئے ملکی اور غیرملکی سیاحوں کو کشمیر آنے کی دعوت دی۔ انہوں نے کہا کہ سیکورٹی فورسز سے کہاگیا ہے کہ کشمیر میں کہیں پر بھی طاقت کا حد سے زیادہ استعمال نہیں کیا جانا چاہئے۔ کشمیر میں امن کے درخت سوکھے نہیں ہیں۔
وزیر اعلیٰ محترمہ مفتی سے مسٹر سنگھ نے کہا ہے کہ 18 سے کم عمر کے بچوں کو جن سے کوئی غلطی سرزد ہوئی ہے، عام جیلوں میں نہیں جوینائل ہاوسز میں رکھا جانا چاہیے اور ان کی مناسب کونسلنگ کی جانی چاہیے۔ انہوں نے نامہ نگاروں سے خطاب کے دوران ریاستی پولیس کے اے ایس آئی عبدالرشید کی بیٹی زہرہ کا ایک بار پھر ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس کے روتے چہرے کو بھول نہیں پاتے ہیں۔ وزیر داخلہ نے کشمیری علیحدگی پسندوں کو مسئلہ کشمیر پر مذاکرات کی دعوت دیتے ہوئے کہا ’جب جب یہاں آیا ہوں تو دل اور دماغ کھول کر آیا ہوں۔” میں نے بارہا کہا کہ میرے ہاتھ کھلے ہیں۔۔۔ میں سب سے بات کرنا چاہتا ہوں۔ لیکن بات کرنے والے لوگ آنے چاہئیں“۔

Title: wont go against sentiments of kashmiris on article 35a rajnath singh | In Category: کشمیر  ( kashmir )