جموں و کشمیر میں آپریشن آل آؤٹ وادی میں بحالی امن کے لیے شروع کیا گیا ہے: پولس سربراہ

سری نگر: جموں وکشمیر کے پولیس سربراہ ڈاکٹر شیش پال وید نے عالمی شدت پسند تنظیم ’القاعدہ‘ کو کشمیری ثقافت کا دشمن قرار دیتے ہوئے کہا کہ انتہا پسندوںکے خلاف آپریشن ’آل آوٹ‘ وادی میں امن کی بحالی کے لئے شروع کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خودسپردگی اختیار کرنے والے بندوق برداروں کی بازآبادکاری کی جائے گی جبکہ ایسا نہ کرنے والوں سے سیکورٹی فورسزنمٹے گی۔ ریاستی پولیس سربراہ نے جمعرات کو یہاں ایک تقریب کے دوران فرصت کے لمحات میں میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا ’القاعدہ کشمیری ثقافت کی دشمن ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ القاعدہ سابق حزب المجاہدین کمانڈر ذاکر موسیٰ کو متاثر کرنے میں کامیاب ہوئی ہے۔
خیال رہے کہ ذاکر موسیٰ کو حال ہی میں ’القاعدہ‘ نے ’کشمیر لنک‘کا سربراہ منتخب کیا۔ سیکورٹی فورسز اور ریاستی پولیس کی جانب سے شروع کردہ آپریشن ’آل آوٹ‘ کے بارے میں پوچھے جانے پر ڈاکٹر وید نے کہا ’یہ آپریشن وادی میں امن کی بحالی کے لئے شروع کیا گیا ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ لوگ بغیر کسی پریشانی اور ڈروخوف کے اپنا کاروبار کریں اور طلبا ئایک پرامن ماحول میں اپنے اسکولوں کو جاسکیں‘۔ انہوں نے خودسپردگی اختیار کرنے والے بندوق برداروں کو بازآبادکاری کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا ’ہم مسلح نوجوانوں کو خودسپردگی اختیار کرنے اور ایک باوقار زندگی گذربسر کرنے کا موقع دیں گے۔ تاہم ایسا نہ کرنے والوں کو سیکورٹی فورسز کا سامنا کرنا پڑے گا‘۔
واضح رہے کہ ضلع پلوامہ کے گلاب باغ ترال میں بدھ کو ہونے والے ایک مختصر مسلح تصادم میں تین مقامی انتہا پسندوں زاہد احمد بٹ ساکنہ نودل ترال، اشفاق احمد ساکنہ بٹہ گنڈ اور محمد اشرف ڈار ساکنہ ترچھ پلوامہ کو ہلاک کیا گیا۔ جہاں پولیس کے مطابق مسلح تصادم میں مارے گئے تینوں انتہا پسند عالمی شدت پسند تنظیم ’القاعدہ‘ کی ’کشمیر لنک‘کے سربراہ ذاکر موسیٰ کے گروپ سے تعلق رکھتے تھے، وہیں انتہاپسند تنظیم حزب المجاہدین نے دعویٰ کیا کہ تینوں انتہا پسند اس وقت مارے گئے جب وہ دوبارہ ایچ ایم میں شامل ہونے کی غرض سے آرہے تھے۔

Title: operation all out to smash jk militants | In Category: کشمیر  ( kashmir )