علاقائی پارٹیوں کو حزب اختلاف کے صدارتی امیدوار کو ووٹ دینا چاہیے:عمر عبد اللہ

سری نگر: جموں وکشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا کہ اراکین پارلیمان و اسمبلی کی سیاسی وابستگی کی بنیاد پر تعداد کو مدنظر رکھا جائے تو صدر جمہوریہ کے انتخابات میں قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) کا پلڑا بھاری نظر آرہا ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ خفیہ بیلٹ ہونے کے سبب ہار جیت سے متعلق پیش گوئی کرنا مشکل ہے۔ عمر عبداللہ نے پیر کے روز یہاں ملک کے نئے صدریہ جمہوریہ کے عہدے کے لئے ہونے والے انتخابات میں اپنا ووٹ ڈالنے کے بعد نامہ نگاروں کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے کہا’اگر آپ نمبر پر ہی جائیں گے تو فی الحال ایسا ہی لگتا ہے کہ الیکٹورل کالج میں این ڈی اے کو فائدہ ہے۔
لیکن خفیہ بیلٹ ہے، آپ اپنا ووٹ کسی کو دکھا نہیں سکتے ہیں۔ امید کی جارہی ہے کہ جن پارٹیوں نے ابھی تک بی جے پی کی مخالفت کی ہے اور جو آگے چل کر ریاستی انتخابات میں بی جے پی کے نشانے پر ہوں گی، شاید آخری لمحات میں ملک کے حالات دیکھتے ہوئے اپنا فیصلہ بدل ڈالیں‘۔ انہوں نے کہا ’لیکن اگر الیکٹورل کالج کی موجودہ صورتحال کو دیکھا جائے تو کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے کہ فائدہ این ڈے اے کو ہی ہے‘۔ عمر عبداللہ نے کہا کہ چونکہ بیشتر ریاستوں میں بی جے پی کی ہی حکومت ہے، اس لئے ظاہر سی بات ہے کہ صدر جمہوریہ، نائب صدر جمہوریہ اور وزیر اعظم بھی ان کا ہی ہوگا۔
انہوں نے کہا ’دہلی میں حکومت ان کی ہے۔ میں دہلی ریاست کی نہیں مرکز کی بات کررہا ہوں۔ زیادہ تر ریاستوں میں بھی اب بی جے پی کی ہی حکومت ہے۔ تو ظاہر سی بات ہے کہ صدر جمہوریہ، نائب صدر جمہوریہ اور وزیر اعظم بھی ان کا ہی ہوگا۔ آگے چل کر اس صورتحال کو تبدیل کیسے کرنا ہے اس پر اپوزیشن غوروفکر کررہی ہے۔ ہمیں بی جے پی کا مقابلہ کرنے کے لئے 2019 کے انتخابات کی تیاری کرنی ہوگی‘۔ جموں وکشمیر میں اراکین پارلیمان و اسمبلی کے ووٹوں کی جملہ قدر 6 ہزار 264 ہے۔

Title: omar abdullah hopeful regional parties may support opposition pick at last moment | In Category: کشمیر  ( kashmir )