سری نگر اور سوپور میں مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے لاٹھی چارج و آنسو گیس

سری نگر:سیکورٹی فورسز نے آج دارالحکومت سری نگر کے پائین شہر اور شمالی کشمیر کے ضلع بارہمولہ کے ایپل ٹاون سوپور میں نماز جمعہ کی ادائیگی کے بعد آزادی حامی احتجاجی مظاہرین کو منتشر کرنے کے لئے لاٹھی چارج اور آنسو گیس کا استعمال کیا۔
خیال رہے کہ کشمیری علیحدگی پسند قیادت سید علی گیلانی، میرواعظ مولوی عمر فاروق اور محمد یاسین ملک نے جمعرات کو ہایہامہ کپواڑہ میں سات سالہ کمسن بچی کی ہلاکت اور اس کے بھائی کو زخمی کرنے کے خلاف جمعہ 17مارچ کو نماز کے بعد پرامن مظاہرے کرنے کی کال دیتے ہوئے الزام لگایا تھا کہ یہ فوجی سربراہ لیفٹیننٹ جنرل بپن راوت کی اس دھمکی کا شاخسانہ ہے ۔
موصولہ اطلاعات کے مطابق سری نگر کی تاریخی جامع مسجد میں نماز جمعہ کی ادائیگی کے فوراً بعد لوگوں کی ایک بڑی کشمیر کی آزادی کے حق میں نعرے بازی کرتے ہوئے جلوس کی صورت میں نوہٹہ چوک کی طرف بڑھنے لگی۔ تاہم وہاں پہلے سے تعینات سیکورٹی فورسز کی بھاری جمعیت نے احتجاجیوں کا راستہ روکا جس کے نتیجے میں کچھ نوجوان مشتعل ہوئے اور سیکورٹی فورسز پر پتھراؤ کرنے لگے۔ سیکورٹی فورسز نے احتجاجیوں کو منتشر کرنے کے لئے لاٹھی چارج اور اشک آور گیس کے گولوں کا شدید استعمال کیا۔
طرفین کے مابین جھڑپوں کا سلسلہ کچھ دیر تک جاری رہا۔ شمالی کشمیر کے ایپل ٹاون سوپور میں بھی نماز جمعہ کی ادائیگی کے بعد احتجاجی مظاہرین اور سیکورٹی فورسز کے مابین جھڑپیں ہوئیں جس دوران سیکورٹی فورسز نے احتجاجیوں کو منتشر کرنے کے لئے اشک آور گیس کے گولوں کا استعمال کیا۔

Title: clashes in srinagar sopore | In Category: کشمیر  ( kashmir )